تاریخ اکثر اپنے سب سے بڑے اسباق کھنڈرات میں چھپا دیتی ہے۔ جو شخص غرناطہ میں الحمرا کے صحنوں میں چلتا ہے، قرطبہ کی عظیم مسجد کی خاموش محرابوں کے نیچے کھڑا ہوتا ہے، یا اشبیلیہ کی قدیم گلیوں میں گھومتا ہے، وہ محض کسی ختم ہو جانے والی سلطنت کی یادگاریں نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ وہ دراصل انسانیت کی تاریخ کی ایک روشن ترین تہذیب کے باقی ماندہ آثار کے درمیان چل رہا...
تاریخ اکثر اپنے سب سے بڑے اسباق کھنڈرات میں چھپا دیتی ہے۔ جو شخص غرناطہ میں الحمرا کے صحنوں میں چلتا ہے، قرطبہ کی عظیم مسجد کی خاموش محرابوں کے نیچے کھڑا ہوتا ہے، یا اشبیلیہ کی قدیم گلیوں میں گھومتا ہے، وہ محض کسی ختم ہو جانے والی سلطنت کی یادگاریں نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ وہ دراصل انسانیت کی تاریخ کی ایک روشن ترین تہذیب کے باقی ماندہ آثار کے درمیان چل رہا...