امریکہ ایران خاموش جنگ کی کہانی

9

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک پیدا ہونے والا تنازع نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی طویل کہانی ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کہانی میں کھلی جنگ کم، مگر حملے، دھمکیاں، پابندیاں اور خفیہ کارروائیاں زیادہ ہیں۔

یہ سلسلہ خاص طور پر 1980 کی دہائی میں نمایاں ہوا، جب ایران اور عراق کی جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اسی دوران خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑا موجود تھا۔ اپریل 1988 میں امریکہ نے آپریشن “پرئینگ مینٹس” کے تحت ایرانی تیل کے پلیٹ فارمز اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایران پر امریکہ کا سب سے بڑا براہِ راست فوجی حملہ مانی جاتی ہے، جس میں ایرانی جنگی کشتیاں تباہ ہوئیں اور کئی فوجی ہلاک ہوئے۔

اسی سال جولائی 1988 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کو مزید زہر آلود کر دیا۔ امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس ونسنز نے ایرانی مسافر طیارہ ایران ایئر فلائٹ 655 مار گرایا۔ اس حادثے میں 290 بے گناہ مسافر جاں بحق ہوئے۔ امریکہ نے بعد میں اسے تکنیکی غلطی قرار دیا، مگر ایران آج تک اسے ناقابلِ معافی جرم سمجھتا ہے۔

وقت گزرتا رہا، محاذ بدلتے رہے۔ 2003 میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو ایران اور امریکہ ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے، اگرچہ اس بار جنگ بالواسطہ تھی۔ عراق میں امریکی افواج اور ایران نواز ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں کئی بار امریکہ نے ان گروہوں پر فضائی حملے کیے۔ اگرچہ یہ حملے ایرانی سرزمین پر نہیں تھے، مگر پیغام صاف تھا: ایران کو خطے میں محدود کرنا۔

یہ کشیدگی جنوری 2020 میں ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی، جب بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے طاقتور کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے۔ اس حملے نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایران نے جواباً عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے، تاہم دونوں ممالک نے مکمل جنگ سے گریز کیا۔

گزشتہ برسوں میں شام ایک اور خاموش محاذ بن کر ابھرا۔ امریکہ نے بارہا شام میں موجود ایرانی تنصیبات اور ایران نواز ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے براہِ راست ایران پر نہیں تھے، مگر اس غیرعلانیہ جنگ کا حصہ ضرور تھے جو پسِ پردہ جاری ہے۔

اگر نقصان کی بات کی جائے تو ایران کو سب سے بڑا دھچکا امریکی پابندیوں کی صورت میں لگا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان پابندیوں کے باعث ملک کو ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ تیل کی برآمدات کم ہوئیں، کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہوئی اور عام شہریوں کی زندگی براہِ راست متاثر ہوئی۔

فوجی حملوں، سائبر جنگ، خفیہ کارروائیوں اور سخت معاشی پابندیوں کے باوجود ایک حقیقت واضح ہے:

امریکہ اور ایران نے آج تک ایک دوسرے کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان نہیں کیا، مگر دونوں ممالک ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جو توپوں سے زیادہ دباؤ، طاقت اور صبر پر لڑی جا رہی ہے۔

یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی — بلکہ ہر نئے بحران کے ساتھ ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ