ایرانی سپریم لیڈر کاامریکہ واسرائیل پر احتجاج میں ہزاروں ہلاکتوں کا الزام

7

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ حکومت مخالف احتجاج کے دوران امریکا اور اسرائیل سے منسلک عناصر نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اور ہزاروں افراد کو قتل کیا۔

ہفتے کے روز اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران “امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر نے سنگین نقصانات پہنچائے اور کئی ہزار لوگوں کو ہلاک کیا۔” انہوں نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو “مجرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بار امریکا کے صدر خود اس مبینہ سازش میں مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر نے کہا کہ ماضی کے احتجاج میں بیرونی مداخلت محدود تھی، تاہم اس بار امریکی صدر کی براہِ راست شمولیت سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے دیرینہ جیو پولیٹیکل مخالفین، خصوصاً امریکا اور اسرائیل، ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور زمینی سطح پر کارروائیوں کی ہدایت دینے میں ملوث رہے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ ایران اگرچہ اپنی سرحدوں سے باہر کشیدگی نہیں بڑھائے گا، تاہم ذمہ دار عناصر کو سزا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا، “ہم ملک کو جنگ میں نہیں جھونکیں گے، لیکن نہ ہی اندرونی یا بین الاقوامی مجرموں کو بغیر سزا چھوڑیں گے۔”

الجزیرہ کے مطابق تہران سے بذریعہ سیٹلائٹ رپورٹنگ کرتے ہوئے نامہ نگار رسول سردار آتاش نے کہا کہ سپریم لیڈر کے بیانات ایران کے روایتی مؤقف کی توثیق کرتے ہیں، تاہم ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق یہ دعویٰ ایک نیا اور اہم پہلو ہے۔ ان کے بقول، پہلی بار ہلاکتوں کے حوالے سے واضح تعداد بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تشدد میں ملوث عناصر کے ہاتھوں ہزاروں افراد مارے گئے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام اس سے قبل بھی احتجاج کے پیچھے غیر ملکی طاقتوں کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتے ہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ