کراچی گل پلازہ ہولناک بے قابو آگ مزیدہلاکتوں کا خطرہ

30

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ 17 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی اور درجنوں تاحال لاپتا ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے باعث گل پلازہ کی عمارت کے دو حصے منہدم ہو چکے ہیں جبکہ پلرز کمزور پڑنے سے پوری عمارت کے گرنے کا شدید خدشہ ہے۔ تین منزلہ شاپنگ پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں موجود ہیں، جن میں سے گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں جبکہ بالائی دو منزلوں پر آگ تاحال لگی ہوئی ہے۔

جاں بحق افراد میں فائر فائٹر بھی شامل

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں فائر فائٹر فرقان شامل ہے جو عمارت کا حصہ گرنے سے ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گیا۔ دیگر جاں بحق افراد کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے جبکہ ایک شخص کی شناخت نہ ہو سکی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھی ٹوٹنے سے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

لاپتا افراد کی تلاش جاری

آگ کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ اہلخانہ مختلف اسپتالوں اور خصوصاً سول اسپتال کے برنس سینٹر کے باہر اپنے پیاروں کی تلاش میں موجود ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ رات تک رابطہ تھا، بعد ازاں فون بند ہو گئے۔

ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، رینجرز اور پی اے اے کی مدد

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق شہر کی تمام فائر ٹینڈرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ پاک بحریہ کے اسنارکلز اور فائر ٹینڈرز بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے بھی سندھ حکومت کی درخواست پر فائر ٹینڈرز موقع پر روانہ کیے۔ تاہم پانی کی کمی اور شدید تپش کے باعث فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

گیس لیکج سے دھماکے کا انکشاف

چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت میں گیس لیکج کے باعث زوردار دھماکا ہوا جس کے بعد آگ نے مزید شدت اختیار کر لی۔ آتش گیر سامان کی موجودگی نے آگ کو مزید پھیلایا۔

ٹریفک نظام متاثر، سڑکیں بند

آتشزدگی کے باعث تبت چوک سے گارڈن چوک ایم اے جناح روڈ اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک ماسٹن روڈ بند کر دی گئی ہے جبکہ متبادل راستوں پر ٹریفک موڑ دی گئی ہے۔

حکومتی شخصیات کا اظہار افسوس اور نوٹس

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو واقعے کی انکوائری اور فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔

تاجر برادری کا اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ

صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر قاسم کے مطابق آگ مصنوعی پھولوں کی دکان سے لگی جو پھیلتی چلی گئی، اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ 80 سے 100 افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ عمارت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، آگ پر قابو پانے اور پھنسے افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے، تاہم صورتحال تاحال نہایت سنگین ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ