
علاقائی کشیدگی اور بدلتی ہوئی جیو اسٹریٹجک صورتحال کے تناظر میں جاپان نے ایک نیا جدید اینٹی شپ کروز میزائل متعارف کرا دیا ہے جو دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بنانے کے لیے غیر معمولی حرکات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جاپانی حکام کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے اس نئے اینٹی شپ میزائل کا حال ہی میں کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، جسے ’آئی لینڈ ڈیفنس میزائل‘ یا ’نیو ایس ایس ایم (New SSM)’ کا نام دیا گیا ہے۔ جاری کی گئی ویڈیو میں میزائل کو فضا میں متعدد ’بیرل رول‘ اور اسپائرل حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو اسے دشمن کے فضائی دفاعی نظام اور قریبی گن سسٹمز سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیو ایس ایس ایم پر کام سنہ 2023 سے جاری ہے، تاہم چین اور تائیوان کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس میزائل کی آزمائش کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ میزائل جدید کروز میزائلوں کے ایک ماڈیولر خاندان کی پہلی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
تکنیکی اعتبار سے نیو ایس ایس ایم میں XKJ301-1 ٹربوفین انجن نصب کیا گیا ہے، جو KHI کے KJ300 ڈیزائن پر مبنی ہے۔ میزائل کو آخری مرحلے میں اسپائرل اور بیرل رول جیسی پیچیدہ حرکات کی صلاحیت دی گئی ہے، جن کا مقصد دشمن کے قریبی دفاعی ہتھیاروں سے مؤثر طور پر بچاؤ کرنا ہے۔
اگرچہ میزائل کی حتمی رینج کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم جاپانی حکام کے مطابق اس کی مار موجودہ ٹائپ 12 اینٹی شپ میزائل سے کہیں زیادہ ہوگی۔ ٹائپ 12 کے اپ گریڈڈ ورژن کی رینج 560 سے 620 میل تک بتائی جاتی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ نیو ایس ایس ایم خطے میں جاپان کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا