بنگلادیش میں جماعت اسلامی کو غیرمعمولی سیاسی پیشرفت کی امید

28

بنگلہ دیش کے ضلع فریدپور سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بینکر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں پہلی بار یہ یقین ہو رہا ہے کہ جس سیاسی جماعت کی وہ حمایت کرتے ہیں، وہ اقتدار تک پہنچنے کی حقیقی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ عبدالرزاق مقامی سطح پر جماعتِ اسلامی کے انتخابی نشان ’ترازو‘ کے تحت مہم چلا رہے ہیں اور ان کے مطابق عوام کی بڑی تعداد متحد ہو کر جماعتِ اسلامی کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بنگلہ دیش، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں بڑا ملک اور مسلمانوں کی چوتھی بڑی آبادی رکھتا ہے، وہاں عام انتخابات 12 فروری کو منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ یہ انتخابات اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد ہونے والا پہلا الیکشن ہوگا، جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے برسراقتدار وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

طلبہ تحریک کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کی قیادت نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔ اس عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد سیاسی میدان بنیادی طور پر دو بڑے دھڑوں تک محدود ہو گیا ہے۔ ایک طرف بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم انتخابی اتحاد ہے، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) اور دیگر مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ این سی پی 2024 کی طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے قائم کی گئی تھی۔

حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعتِ اسلامی بی این پی کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ دسمبر میں امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کے سروے کے مطابق بی این پی کو 33 فیصد جبکہ جماعتِ اسلامی کو 29 فیصد حمایت حاصل تھی۔ تاہم گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کے معروف تحقیقی اداروں — جن میں NarratiV، Projection BD، انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف لا اینڈ ڈپلومیسی (IILD) اور جگورن فاؤنڈیشن شامل ہیں — کے مشترکہ سروے میں بی این پی کو 34.7 فیصد اور جماعتِ اسلامی کو 33.6 فیصد عوامی حمایت حاصل پائی گئی۔

اگر جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو یہ ایک غیر معمولی سیاسی تبدیلی ہوگی، کیونکہ شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ حکومت میں جماعتِ اسلامی کو شدید کریک ڈاؤن کا سامنا رہا۔ اس عرصے میں جماعت پر پابندی عائد رہی، اس کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی یا جیلوں میں ڈال دیا گیا، جبکہ ہزاروں کارکنان کے لاپتا ہونے یا حراست میں ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

یہ کریک ڈاؤن 2010 میں قائم کیے گئے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے فیصلوں کے بعد ہوا تھا، جس میں 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران مبینہ جرائم کے الزامات میں جماعت کے رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئیں۔ یہ ٹریبونل ابتدا ہی سے متنازع رہا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ نومبر 2025 میں اسی ٹریبونل نے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو 2024 کی عوامی تحریک کے دوران کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے الزام میں سزائے موت سنائی، جس میں 1,400 سے زائد مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے۔ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، جہاں وہ تحریک کے بعد پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔ عبوری حکومت کی متعدد اپیلوں کے باوجود بھارت نے تاحال شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا

مزید خبریں

آپ کی راۓ