
واشنگٹن: امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کی علاقائی حدود سے حتی الامکان دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جاری کی گئی ہیں۔
امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن (MARAD) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو اپنے جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں۔ تاہم ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز پر ایرانی فورسز سوار ہو جائیں تو عملہ زبردستی مزاحمت نہ کرے۔
ایڈوائزری کے مطابق، ’’زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب یہ نہیں کہ اس کارروائی پر رضامندی یا اتفاق کیا جا رہا ہے۔‘‘
امریکی حکام نے مزید سفارش کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت امریکی جہاز ایران کے علاقائی سمندر سے محفوظ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیوی گیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو۔ مشرق کی جانب سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کی علاقائی حدود کے قریب رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران نے جمعہ کے روز عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور مکمل کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور دھمکیوں کے تبادلے نے کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا تھا، جس کے باعث خطے میں ممکنہ تصادم کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
عالمی شپنگ کو درپیش خطرات
بین الاقوامی شپنگ روٹس ماضی میں بھی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی سے متاثر ہوتی رہی ہیں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں۔ 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جسے تاریخ میں ’’ٹینکر وار‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔