
امریکی سرحدی امور کے سربراہ ٹام ہومَن نے اعلان کیا ہے کہ ریاست مینیسوٹا میں جاری امیگریشن کریک ڈاؤن، جس کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور احتجاجی مظاہروں کے ساتھ دو افراد ہلاک ہوئے، اب ختم کیا جا رہا ہے۔
منی ایپولِس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹام ہومَن نے کہا کہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ “آپریشن میٹرو سرج” کو ختم کر دیا جائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے اتفاق کیا۔ ان کے بقول اس کارروائی کے نتیجے میں مینیسوٹا اب “مجرموں کے لیے کم پناہ گاہ ریاست” رہ گئی ہے۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے یکم دسمبر کو یہ آپریشن شروع کیا تھا۔ وفاقی حکام کے مطابق منی ایپولِس-سینٹ پال کے علاقے میں کارروائیوں کے دوران چار ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، حتیٰ کہ کچھ امریکی شہری بھی زیر حراست آئے۔
اس آپریشن کے دوران وفاقی اہلکاروں کی فائرنگ سے دو امریکی شہری ہلاک ہوئے، جس کے بعد ریاست بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا اور وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ریاست کے گورنر ٹم والز سمیت مقامی حکام نے آپریشن کے خاتمے کے اعلان کا محتاط خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس کارروائی کے سماجی اور معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔