
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہوا، جہاں بالواسطہ بات چیت کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دونوں ممالک بنیادی اصولوں پر متفق ہوگئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوری معاہدے کا امکان نہیں تاہم عملی شروعات ہوچکی ہے، فریقین ممکنہ معاہدے کی دستاویزات پر کام کرکے تبادلہ کریں گے۔ عراقچی نے امریکا سے طاقت کے استعمال کی دھمکیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی Steve Witkoff اور Jared Kushner نے کی، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ Badr Albusaidi نے کہا کہ اگلی ملاقات سے قبل دونوں فریق واضح اقدامات کے ساتھ آئیں گے۔
قبل ازیں امریکی صدر Donald Trump نے کہا تھا کہ وہ مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہیں گے، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ نتائج پہلے سے طے کرنا احمقانہ ہے اور ایران کی پرامن جوہری صنعت ملک کی ترقی کے لیے ہے، جنگ کے لیے نہیں