ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اور فلسطینیوں کے حالات

1

غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں جب امریکا کے صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں اپنے بورڈ آف پیس (BoP) کا پہلا اجلاس منعقد کیا تو غزہ کے بے گھر فلسطینی سفارتی اصطلاحات یا سیاسی خاکوں پر بحث نہیں کر رہے تھے، بلکہ ان کے ذہن میں صرف ایک سوال تھا: کیا زمینی حقائق میں کوئی حقیقی تبدیلی آئے گی؟

وسطی اور جنوبی غزہ کی سڑکوں اور خیمہ بستیوں میں لاکھوں بے گھر فلسطینی سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دیر البلح میں خیمے میں مقیم 43 سالہ امل جودہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کے لیے امدادی رقوم کے اعلانات تو بہت سنے ہیں، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں بدلا۔ ان کے مطابق ان کا گھر تباہ ہو چکا ہے، شوہر اور بچے زخمی ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی بحالی اور تعمیرِ نو کی منتظر ہیں۔

واشنگٹن میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ نو ممالک نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 7 ارب ڈالر کے فنڈ کا وعدہ کیا ہے جبکہ پانچ ممالک نے فلسطینی علاقے میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، تاہم اس رقم کے مصرف کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی مکمل تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جو کہ اعلان کردہ رقوم سے کہیں زیادہ ہیں۔ دو برس سے زائد جاری شدید اسرائیلی بمباری نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، جس کے باعث زمینی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ