
ایرانی حکومت نے ایک بار پھر گزشتہ ماہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کا الزام “دہشت گردوں” پر عائد کر دیا ہے۔ یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس معاملے پر ردِعمل دیا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت نے 3 ہزار 117 افراد کی فہرست جاری کر دی ہے، جنہیں اُن کے بقول “حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے متاثرین” قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس فہرست میں تقریباً 200 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جو حالیہ بدامنی کے دوران مارے گئے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ہلاکتوں کی ذمہ داری شدت پسند عناصر پر عائد ہوتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں