
ایران کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “فیک نیوز” قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات کا مقصد عالمی معیشت اور تیل کی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرنا ہے۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی قوم جارح ممالک کو “مکمل اور شرمناک سزا” دینا چاہتی ہے، اور اس مقصد کے حصول تک تمام ریاستی ادارے قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
دوسری جانب ایک ایرانی سیکیورٹی اہلکار کے مطابق ایران کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور مغربی ممالک کو معاشی خطرات اور مارکیٹ میں عدم استحکام کا بھی سامنا تھا۔
اہلکار نے مزید کہا کہ مختلف ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، تاہم ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مطلوبہ دفاعی برتری حاصل ہونے تک اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی مارکیٹ جلد معمول پر نہیں آئیں گی، جبکہ ٹرمپ کا پانچ روزہ الٹی میٹم ایرانی عوام کے خلاف اقدامات کا تسلسل ہے، جس کا جواب ایران “وسیع دفاع” کی صورت میں دیتا رہے گا