
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران اور اس کی اتحادی مزاحمتی قوتوں نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں آپریشن وعدہ سچائی 4 کی 93ویں لہر کے دوران بھرپور اور منظم کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوجی اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جسے خطے میں مزاحمتی محور کی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس مرحلے میں شمالی اور وسطی مقبوضہ علاقوں میں اہم عسکری اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ یہ آپریشن جمعہ کی سہ پہر انجام دیا گیا اور اسے حزب اللہ کے شہید رہنما حسن نصر اللہ اور حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے نام سے منسوب کیا گیا، جسے مزاحمت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی گلیلی، حیفہ، کفر قانہ اور قریوت جیسے اہم علاقوں میں صہیونی افواج کے اجتماعی مراکز، کمانڈ پوسٹس اور جنگی لاجسٹک سپورٹ یونٹس کو نہایت مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے دفاعی نظام کو شدید دھچکا پہنچا۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی صرف ایک محدود حملہ نہیں بلکہ ایک مربوط اور اسٹریٹجک آپریشن کا حصہ ہے، جو اتحادی مزاحمتی قوتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ اس میں ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے جدید میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ ہتھیار اور جدید خودکش ڈرونز استعمال کیے گئے، جو ایران کی عسکری خود کفالت اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا واضح ثبوت ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مزاحمتی قوتوں کی یہ کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی اور دشمن کو کسی بھی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے مربوط اور مسلسل حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اور اس کے اتحادی نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ حکمتِ عملی میں بھی برتری حاصل کر چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ مزاحمتی محور اپنی حکمت عملی، اتحاد اور عسکری صلاحیت کے باعث ایک مضبوط اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر رہا ہے