فرانسیسی جرنل نے امریکی جرنلزکو کوکین ناں سونگھنے کا مشورہ

15

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) — عالمی سفارتی و عسکری حلقوں میں اس وقت حیرت اور تشویش کی لہر دوڑ گئی جب ایک فرانسیسی جنرل نے امریکی فوجی قیادت کی منصوبہ بندی پر سخت اور غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دے دیا۔

برطانوی اخبار کے مطابق فرانسیسی جنرل مائیکل یاکولیف سے سوال کیا گیا کہ وہ ان رپورٹس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران میں موجود یورینیئم پر قبضے اور اسے وہاں سے منتقل کرنے کے لیے رن وے تعمیر کرنے جیسے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔

اس پر جنرل یاکولیف نے نہایت سخت اور طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اگر اعلیٰ امریکی فوجی افسران اس نوعیت کے “عظیم منصوبے” ان کے سامنے پیش کریں تو وہ سیدھا یہی کہیں گے کہ “کوکین سونگھنا بند کریں”۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فرانسیسی جنرل کا یہ بیان دراصل امریکی عسکری قیادت کی حکمت عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جو بظاہر زمینی حقائق، علاقائی پیچیدگیوں اور ممکنہ تباہ کن نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر سنجیدہ اور ناقابلِ عمل منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے حساس اور طاقتور ملک میں اس نوعیت کی کارروائی نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں غیر حقیقت پسندانہ تجاویز دینا اس بات کا ثبوت سمجھا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی قیادت کے کچھ حلقوں میں فیصلہ سازی کا معیار تنقید کی زد میں ہے۔

دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی محض طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ زمینی حقائق، سفارتی توازن اور طویل المدتی نتائج کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جاتی ہے، جبکہ اس قسم کے بیانات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ