
کالعدم شدت پسندوں کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی آصف محسود کو نہ چھیڑنے اور بحفاظت جانے دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مبینہ آڈیو میں دو افراد، جنہیں دہشت گرد کمانڈر بادشاہ اور راکٹی کہا جا رہا ہے، کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے۔ آڈیو کے مطابق کمانڈر بادشاہ کا کہنا ہے کہ آصف محسود کے حوالے سے غلط فہمی ہوئی تھی۔
گفتگو میں ہدایت کی گئی کہ آصف محسود کو گرفتار نہ کیا جائے اور ان سے معذرت بھی کی جائے۔ مبینہ آڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
اس حوالے سے آصف محسود نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ان افراد سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ انہیں جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان افراد کے درمیان کوئی گفتگو انٹرسیپٹ ہوئی ہے تو اس سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ ان کے بقول وہ صرف اپنے آبائی علاقے وزیرستان گئے تھے۔
آصف محسود نے مزید کہا کہ ان کا ان لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش مبینہ آڈیو حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں