
امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مدورو کو حراست میں لینے کے بعد وینزویلا میں اچانک پیدا ہونے والی افراتفری کے باعث ایک مختصر مگر سنگین اقتدار کا خلا پیدا ہوا ہے۔
ہفتے کے روز امریکی فوج نے دارالحکومت کاراکاس اور دیگر علاقوں پر شدید فضائی حملے کیےتھےجس کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر متوقع اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وینزویلا کی نائب صدر، 56 سالہ ڈیلسے روڈریگز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے
یہ اعلان وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے، جنہیں گزشتہ برس نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا، ابھی تک کے مطابق امریکی صدر نے انہیں نظرانداز کرتے ہوئے ڈیلسے روڈریگز کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد خطے میں جمہوریت اور استحکام کو فروغ دینا ہے، جبکہ وینزویلا کے حکام اور ناقدین کے مطابق اصل تنازع تیل، اقتدار اور عالمی اتحادوں پر کنٹرول کا ہے۔
لکی مروت میں دہشت گردوں نے نجی فیکٹری کی بس کو نشانہ بنا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ دو خواتین سمیت 9 افراد زخمی...