
معزول وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر کے روز نیویارک کی ایک عدالت میں منشیات سے متعلق دہشت گردی (نارکو ٹیررازم) کے الزامات میں خود کو بے گناہ قرار دیا۔ یہ پیشی اس وقت ہوئی جب دو روز قبل امریکی افواج نے کاراکاس میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا تھا۔
معزول رہنما اور ان کی اہلیہ نے عدالت میں اس وقت حاضری دی جب چند دن پہلے ہی انہیں کاراکاس سے ایک اچانک امریکی فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جسے واشنگٹن کی تیل سے مالا مال ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی منصوبہ بندی سے جوڑا جا رہا ہے۔
63 سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ دونوں کو ہفتے کے روز امریکی حملے کے دوران زبردستی کاراکاس سے نکالا گیا، جہاں کمانڈوز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کارروائی کی، جبکہ جنگی طیاروں اور بحری افواج کی مدد بھی حاصل تھی۔
مادورو نے مین ہیٹن میں ایک وفاقی جج کو بتایا کہ انہیں وینزویلا سے “اغوا” کیا گیا ہے اور کہا، “میں بے گناہ ہوں، میں نے کوئی جرم نہیں کیا”، جیسا کہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا، “میں اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں۔”
سیلیا فلوریس نے بھی الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا۔
آج صبح مادورو کو سخت مسلح قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی نگرانی میں نیویارک کی عدالت لے جایا گیا، جہاں انہیں ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑی کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
صحافی نعیم حنیف نے اداکارہ صبا قمر سے سرِعام معذرت کر لی ہے، جب فلم پامال کی اسٹار کی جانب سے یکم نومبر کو اپنے پوڈکاسٹ میں ان کے خلاف “ہتک آمیز” ...