
صحافی نعیم حنیف نے اداکارہ صبا قمر سے سرِعام معذرت کر لی ہے، جب فلم پامال کی اسٹار کی جانب سے یکم نومبر کو اپنے پوڈکاسٹ میں ان کے خلاف “ہتک آمیز” بیانات دینے پر انہیں قانونی نوٹس بھجوایا گیا تھا۔
منگل کے روز نعیم حنیف آر این این نیٹ ورک کے یوٹیوب چینل پر بشریٰ خان کے زیرِ میزبانی ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے، جہاں میزبان نے انہیں صبا قمر سے متعلق بات کرنے کا موقع دیا۔ اس دوران نعیم حنیف نے اعتراف کیا کہ 3 نومبر کو ان کے چینل پر صبا قمر سے متعلق ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی تھی، جس میں انہوں نے غلط طور پر دعویٰ کیا کہ اداکارہ لاہور میں کسی کے ساتھ لیو اِن ریلیشن شپ میں ہیں۔
انہوں نے کہا،
“بعد میں میں نے اس خبر کی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ درست نہیں تھی اور اس میں کوئی سچائی نہیں تھی۔ یہ حقیقت کے بالکل برعکس بات تھی جس سے ان کے جذبات مجروح ہوئے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ ہم اس پر معذرت خواہ ہیں اور اس تکلیف کے لیے بھی جو انہیں پہنچی۔”
صبا قمر نے اس معذرت پر ردعمل دیتے ہوئے اسے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا اور کیپشن میں صرف ایک لفظ لکھا: “Speechless”۔
یکم نومبر کو نعیم حنیف، جو آر این این ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق ادارے کے سی ای او بھی ہیں، آر این این ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر ایک نیوز پوڈکاسٹ میں نظر آئے تھے، جہاں انہوں نے صبا قمر کے اس بیان پر گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کراچی کے بجائے لاہور میں رہنے کو ترجیح دینے کا ذکر کیا تھا۔ اس گفتگو کے دوران نعیم حنیف نے اداکارہ کے خلاف 2000 کی دہائی کے اوائل سے متعلق اخلاقی نوعیت کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے اداکارہ نتاشا علی کے بارے میں بھی اسی نوعیت کے دعوے کیے اور اداکارہ مشی خان کے خلاف بھی نازیبا تبصرے کیے۔
اس کے فوراً بعد صبا قمر نے صحافی کو قانونی نوٹس بھجوا دیا اور نوٹس کے اسکرین شاٹس انسٹاگرام اسٹوریز میں اپنے پیغام کے ساتھ شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے جس نے ان کے بارے میں جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پھیلائے۔
انہوں نے اپنے مداحوں اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والوں پر زور دیا کہ وہ مضبوط رہیں، ہتک عزت اور بے عزتی کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایسے لوگوں کو جوابدہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا،
“کسی کو بھی صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹے الزامات لگانے کا حق نہیں۔”
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صحافی نے صبا قمر کی ذاتی اور اخلاقی کردار کشی کرتے ہوئے ہتک آمیز، صنفی تعصب پر مبنی اور توہین آمیز بیانات دیے۔ نوٹس میں اس سوچ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ عورت کی کامیابی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے مردوں سے وابستگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
نوٹس میں نعیم حنیف کے لہجے کو بھی صحافتی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے بیانات سے اداکارہ کو شدید ذہنی اذیت اور ساکھ کو نقصان پہنچا۔
قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ صحافی سات دن کے اندر ہتک آمیز اور صنفی تعصب پر مبنی مواد ہٹائیں، سرِعام معافی مانگیں، صبا قمر کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق مزید کوئی بیان نہ دیں اور بطور ہرجانہ 10 کروڑ روپے ادا کریں۔
یکم نومبر کو نشر ہونے والا پوڈکاسٹ بعد ازاں چینل سے ہٹا دیا گیا ہے۔
پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کے لیے نیلامی کا مرحلہ مکمل ہو گیا، جس کے نتیجے میں ساتویں اور آٹھویں فرنچائزز فروخت کر دی گئیں۔ ساتویں ...