چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں خصوصی پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جا رہا ہے، محسن نقوی

52
محسن نقوی اور وانگ شیاو ہونگ کی ملاقات کے بعد فوٹو

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔

 

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے یہ بات بیجنگ میں چین کے وزیرِ عوامی سلامتی وانگ شیاو ہونگ سے ملاقات کے دوران کہی۔

 

دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سلامتی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی، جہاں محسن نقوی کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔

 

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور تیز رفتار ردِعمل کے نظام کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگراموں کو وسعت دینا بھی شامل ہے۔

 

وانگ شیاو ہونگ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا،

“ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔”

 

بیان کے مطابق دونوں وزرائے داخلہ نے پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی پولیس اور دیگر اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

 

محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر وانگ شیاو ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔

 

محسن نقوی نے کہا،

“چینی شہریوں اور باہمی مفاد کے منصوبوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا چکے ہیں اور اسلام آباد میں ان کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔

 

پاکستان میں ماضی میں چینی شہری متعدد بار حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے دسمبر 2024 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے اس وقت تک دہشت گرد حملوں میں 20 چینی شہری ہلاک جبکہ 34 زخمی ہوئے۔

 

یہ معلومات کراچی میں ایک سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے دو چینی شہریوں پر فائرنگ کے واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آئیں، جس میں دونوں زخمی ہوئے تھے۔

 

اسی سال اکتوبر میں کراچی ایئرپورٹ پر بم دھماکے کے نتیجے میں دو چینی انجینئر ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

 

گزشتہ برس جولائی میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان میں چینی کمیونٹی کے لیے محفوظ اور کاروبار دوست ماحول قائم کر رہی ہے، جس کے لیے ان کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

 

انہوں نے یہ بات پاکستان میں چینی شہریوں کے لیے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق اجلاس کی صدارت کے دوران کہی اور اس بات پر زور دیا کہ

“پاکستانی معیشت کے مستقبل کے لیے چینی کمپنیوں کا اعتماد انتہائی اہم ہے۔”

 

وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ترقی کے تناظر میں پاکستان میں چینی شہریوں کا تحفظ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، اور انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ایئرپورٹس پر ان کی آمد و روانگی کو سہل بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کے لیے نیلامی کا مرحلہ مکمل ہو گیا، جس کے نتیجے میں ساتویں اور آٹھویں فرنچائزز فروخت کر دی گئیں۔ ساتویں ...

  تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعرات کے روز خود کو “دہشت گردوں کا سہولت کار” قرار دیے جانے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مؤقف ہم...

آپ کی راۓ