
سوڈان کے وزیراعظم کامل ادریس نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے تقریباً تین برس بعد دارالحکومت خرطوم واپسی شروع کر دی ہے، جو اب تک جنگی حالات کے باعث عارضی دارالحکومت پورٹ سوڈان سے کام کر رہی تھی۔
اپریل 2023 میں سوڈانی فوج (SAF) اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان خانہ جنگی کے آغاز کے بعد حکومت کو خرطوم چھوڑنا پڑا تھا، کیونکہ دارالحکومت پر تیزی سے مخالف فورسز نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم گزشتہ مارچ میں فوج کے دوبارہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد حکومت نے مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کیا۔
اتوار کے روز خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کامل ادریس نے کہا،
“آج ہم واپس آ گئے ہیں، اور حکومتِ امید قومی دارالحکومت میں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال رہی ہے۔”
انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ بہتر بنیادی سہولیات، معیاری طبی خدمات، تباہ شدہ اسپتالوں کی بحالی، تعلیمی شعبے کی ترقی اور بجلی، پانی و صفائی کے نظام میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات ہوں گی۔
واضح رہے کہ تقریباً دو برس تک خرطوم — جو خرطوم، اومدرمان اور خرطوم نارتھ (بحری) پر مشتمل ہے — شدید لڑائی کا مرکز بنا رہا۔ متعدد علاقے محاصرے میں رہے، دریائے نیل کے آر پار توپ خانے کا استعمال کیا گیا اور لاکھوں شہری بے گھر ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق مارچ سے اکتوبر کے درمیان تقریباً 12 لاکھ افراد خرطوم واپس لوٹے، تاہم انہیں تباہ حال شہر، ناکارہ بنیادی سہولیات، مسمار گھروں اور عارضی قبروں سے اٹے محلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق اب ان علاقوں میں قائم عارضی قبرستانوں سے لاشوں کی باقاعدہ منتقلی کا عمل بھی جاری ہے۔
جنگ کے باعث صرف دارالحکومت میں ہی دسیوں ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، کیونکہ شدید حالات کے باعث بہت سے خاندان اپنے پیاروں کو عارضی قبروں میں دفنانے پر مجبور ہوئے۔
ماہرین کے مطابق خرطوم میں حکومتی واپسی سوڈان میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم جنگ سے متاثرہ شہر کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہوگا