کیوبا نے ٹرمپ کی دھمکی مسترد کر دی

105

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی مذاکرات سے صاف انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف امیگریشن سے متعلق تکنیکی معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر دیاز کانیل کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے مسئلے کے علاوہ امریکا کے ساتھ کسی اور موضوع پر مذاکرات نہیں کیے جا رہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر معاہدے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

صدر کانیل نے یہ ردعمل ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں دیا جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا اور کیوبا کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ کیوبا کے صدر نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ کیوبا نے برسوں تک وینزویلا سے حاصل ہونے والے تیل اور مالی وسائل پر انحصار کیا اور اس کے بدلے وینزویلا کے دو رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اب امریکا کی طاقتور فوج وینزویلا کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور کیوبا کو مزید تیل یا مالی مدد نہیں ملے گی، اس لیے فوری معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کی دھمکی پر کیوبا کے صدر نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کوئی بھی ملک یا رہنما اسے یہ حکم نہیں دے سکتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے

مزید خبریں

آپ کی راۓ