گرین لینڈ کا دو ٹوک اعلان

14

گرین لینڈ کی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ آرکٹک جزیرے پر امریکی قبضے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا کسی نہ کسی طریقے سے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔

گرین لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے قبضے کی خواہش کا اظہار ناقابلِ قبول ہے اور حکومتی اتحادی جماعتیں اس مؤقف پر مکمل طور پر متفق ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ گرین لینڈ اپنی خودمختاری اور سیاسی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد بار گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی بات کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال یہ خطہ امریکی قومی سلامتی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور اگر امریکا نے قدم نہ اٹھایا تو روس یا چین یہاں اثر و رسوخ قائم کر سکتے ہیں۔

گرین لینڈ کی حکومت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جزیرے کا دفاع نیٹو کے دائرہ کار میں مضبوط بنایا جائے گا۔ حکومت نے یاد دلایا کہ ڈنمارک کی مشترکہ ریاست کا حصہ ہونے کے باعث گرین لینڈ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے، اس لیے اس کا دفاع اجتماعی نیٹو نظام کے تحت ہی ہونا چاہیے، نہ کہ کسی یکطرفہ قبضے کے ذریعے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ گرین لینڈ کی حکومت کے مطابق اس حمایت کے بعد نیٹو کے فریم ورک میں دفاعی تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا۔

ادھر یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع و خلاء اینڈریئس کوبیلیئس نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضہ کیا تو یہ نیٹو کے وجود کے لیے شدید دھچکا اور اتحاد کے خاتمے کے مترادف ہو گا۔

گرین لینڈ کی حکومت نے آخر میں واضح کیا کہ اگرچہ تمام نیٹو ممالک، بشمول امریکا، جزیرے کے دفاع میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں، تاہم امریکی قبضہ نہ قابلِ قبول ہے اور نہ ہی قابلِ جواز

مزید خبریں

آپ کی راۓ