
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران منصفانہ، مساوی حقوق اور باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کے لیے بھی آمادہ ہے۔
یہ بیان پیر کو تہران میں غیر ملکی سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کے دوران سامنے آیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران پر دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے بات چیت مسلط نہیں کی جا سکتی، تاہم سفارتی راستے کھلے رکھنا ایران کی پالیسی کا حصہ ہے۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی رہنما مذاکرات کے لیے رابطہ کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران میں اقتصادی مسائل کے خلاف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے بتایا کہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے جاری ہیں، حالانکہ ایران اور امریکا کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات موجود نہیں۔
ترجمان کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ نے بھی ہفتے کے روز تہران میں عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور رابطوں کی تصدیق ہوتی ہے