
تنزانیہ کے شمالی علاقے میں واقع جھیل ناٹرون دنیا کی اُن چند قدرتی عجائبات میں شامل ہے جو بیک وقت خوف اور حیرت کو جنم دیتی ہیں۔ سرخ رنگت، شدید الکلائن پانی اور “پتھر میں بدل دینے” والی خصوصیات نے اس جھیل کو عالمی سطح پر شہرت دی ہے۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق جھیل ناٹرون تقریباً ڈیڑھ ملین سال قبل آتش فشانی سرگرمیوں اور زمینی حرکات کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس کے پانی میں سوڈیم کاربونیٹ اور کیلشیم بائکاربونیٹ کی غیر معمولی مقدار پائی جاتی ہے، جو پانی کو نہایت الکلائن اور بیشتر جانداروں کے لیے مہلک بنا دیتی ہے۔
معروف فوٹوگرافر نک برانڈٹ نے اپنی کتاب میں جھیل کے کنارے پائے جانے والے مردہ جانوروں اور پرندوں کی تصاویر شائع کیں، جن کے جسم پتھر نما دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جھیل کے پانی میں موجود معدنیات جانوروں کی جلد اور آنکھوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ سوڈیم کاربونیٹ مردہ جسموں کو محفوظ کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے قدیم مصر میں حنوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تاہم جھیل ناٹرون صرف موت کی علامت نہیں۔ اسی خطرناک ماحول میں مخصوص خوردبینی جاندار اور سرخ الجی بھی پروان چڑھتی ہیں، جو جھیل کو منفرد سرخ رنگ عطا کرتی ہیں۔ یہی الجی فلیمنگو پرندوں کی بنیادی خوراک ہیں، جس کے باعث جھیل ناٹرون ان کے لیے دنیا کی محفوظ ترین افزائشی پناہ گاہ بن چکی ہے۔
خطرناک پانی اور کٹھن حالات کی وجہ سے فلیمنگو کے قدرتی دشمن اس علاقے تک نہیں پہنچ پاتے۔ افزائشِ نسل کے موسم میں لاکھوں فلیمنگو یہاں جمع ہو کر جھیل اور اس کے اطراف کو گلابی اور سرخ رنگ میں بدل دیتے ہیں، جو ایک دلکش قدرتی منظر پیش کرتا ہے۔
جھیل کے اردگرد کے علاقوں میں وحشی بیسٹ، شتر مرغ، پیلیکن اور دیگر جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں، تاہم وہ زیادہ تر قریبی تازہ پانی کے ذخائر تک محدود رہتے ہیں۔
جھیل ناٹرون اپنی ہلاکت خیز خصوصیات اور حیرت انگیز حیاتیاتی نظام کے ساتھ قدرت کی ایک نایاب تخلیق ہے، جو سائنس دانوں، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کو آج بھی حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہے