ٹرمپ نے ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ بنالیا؟

1

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف طویل جنگ کے بجائے مختصر لیکن زور دار اور فیصلہ کن کارروائی کے خواہاں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس آپشن پر غور جاری ہے کہ کسی محدود مدت کی کارروائی کے ذریعے فوری نتائج حاصل کیے جائیں۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف نے فوری طور پر ’دفاعی‘ تیاریوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام کو توقع ہے کہ امریکا کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل اسرائیل کو پیشگی وارننگ دے گا۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے بقول انہیں معتبر ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ہلاکتیں رک چکی ہیں اور پھانسیاں نہیں ہوں گی۔

ادھر سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ٹرمپ انتظامیہ نے قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکالنے کا حکم دیا ہے، جبکہ برطانیہ نے بھی اسی اڈے سے اپنا عملہ واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے، ورنہ وہی نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔

علاقائی سطح پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر، سعودی عرب اور عمان امریکا کو ایران پر حملے سے روکنے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں، جبکہ جرمن ایئر لائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

صورتحال میں تیزی سے بدلتی پیش رفت کے باعث خطے میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور عالمی برادری آئندہ چند دنوں کو نہایت اہم قرار دے رہی ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ