مزاحمت کی بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے: شاہ محمود قریشی

11

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مزاحمت کے بعد بالآخر مفاہمت ہی ہوتی ہے اور ملک کو آگے بڑھانے کا واحد راستہ سنجیدہ گفتگو ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے اور وہ اس حوالے سے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے فواد چوہدری سے ملاقات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری اور وہ ایک ہی جماعت میں رہ چکے ہیں، جب وہ اسپتال میں زیرِ علاج تھے تو فواد چوہدری عیادت کے لیے آئے، اب گھر آئے مہمان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ کیوں ملنے آئے ہو۔

شاہ محمود قریشی کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

خارجہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی ہر ممکن مدد کی ہے، تاہم ہمارا جائز مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے۔

ایران کے ساتھ سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فی الحال ایران بارڈر پر صورتحال کنٹرول میں ہے۔ بھارت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو جنگ میں شکست دی، اللّٰہ نے ہمیں عزت دی، تاہم بھارت کی جانب سے خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا

مزید خبریں

آپ کی راۓ