
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔
https://x.com/foreignofficepk/status/2012837007634939909?s=46&t=vu7_mLkLIp-Uz_JnDhtf5A
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کو غزہ سے متعلق تشکیل دیے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کی باضابطہ پیشکش موصول ہو چکی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور فلسطینی اتھارٹی و حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کو فروغ دینا ہے۔
اسرائیل کا بورڈ آف پیس کو مسترد کرنے کا اعلان
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومتی پالیسی کے منافی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے سامنے اٹھائیں گے۔
غزہ بورڈ آف پیس میں کون کون شامل ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو بورڈ آف پیس کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ بورڈ کے دیگر اہم ارکان میں سابق برطانوی وزیراعظم سر ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نامزد خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔
عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کو مالی معاونت اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ اپالو گلوبل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو مارک روون اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے امور کی نگرانی کریں گے۔
سیکیورٹی معاملات کے لیے امریکی نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گبریل کو سیکیورٹی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں مشرق وسطیٰ کے سابق خصوصی نمائندے نکولے ملادینوف کو بورڈ اور انٹرنیشنل کمیٹی کے درمیان رابطہ کار بنایا گیا ہے۔
فلسطینی ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر علی شعتھ کو نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ میں روزمرہ انتظامات اور ادارہ جاتی تعمیر نو کی نگرانی کریں گے۔
ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل
غزہ کے لیے ایک علیحدہ ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان، قطری سفارت کار علی الثوادی، مصر کے انٹیلی جنس چیف جنرل حسن رشید اور متحدہ عرب امارات کی وزیر ریم الہاشمی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیلی کاروباری شخصیت یاکیر گابے اور نیدرلینڈز کے سابق نائب وزیراعظم سیگرڈ کاگ بھی ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ ہوں گے۔ یہ بورڈ غزہ میں حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے عمل میں بورڈ آف پیس کو معاونت فراہم کرے گا