غزہ پر نیا طوفان منڈلانے لگا

20

غزہ میں ایک نئے طوفان کی پیش گوئی نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جہاں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینی پہلے ہی شدید سردی اور بارش کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیشتر متاثرہ افراد عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جو سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔

اسرائیل کی دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کے تقریباً 20 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں اور پناہ گزین کیمپوں میں عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق گزشتہ ہفتے شدید موسمی صورتحال کے باعث پناہ گزین کیمپوں میں موجود 1 لاکھ 35 ہزار میں سے تقریباً 1 لاکھ 27 ہزار خیمے ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے نمائندے طارق ابو عزوم نے غزہ سٹی سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ “زمینی حقائق نہایت دردناک اور خوفناک کہانی بیان کر رہے ہیں۔ لاکھوں بے گھر خاندان پھٹے ہوئے خیموں اور بغیر چھت کے گھروں میں بارش، سردی اور منجمد راتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔”

طارق ابو عزوم کے مطابق یہ صورتحال براہِ راست اسرائیلی پابندیوں کا نتیجہ ہے، کیونکہ اسرائیل کی جانب سے سردیوں سے بچاؤ کے لیے ضروری پری فیبریکیٹڈ موبائل گھروں، تعمیراتی سامان اور بنیادی انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرک داخل ہونے تھے، تاہم گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اوسطاً صرف 145 امدادی ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو پا رہے ہیں۔

ان حالات میں متوقع طوفان نے غزہ میں انسانی المیے کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ