
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین، روس اور امریکا کے حکام پہلی بار جمعہ اور ہفتہ کو سہ فریقی مذاکرات کریں گے، جبکہ امریکا روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔
ڈاووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں کی شرائط کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ جنگ کے بعد معاشی بحالی سے متعلق معاہدہ بھی تقریباً تیار ہے۔ یہ معاہدہ کیف کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا اہم حصہ ہے۔
زیلنسکی نے بتایا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب یوکرین نے امریکا کے اُس ابتدائی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جسے ماسکو کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھنے والا سمجھا جا رہا تھا۔ یوکرینی قیادت کے مطابق نئی مجوزہ شرائط یوکرین کے مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔
سہ فریقی مذاکرات کو جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے