
اسلام آباد ہائیکورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹ جاتے ہوئے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سرینا چوک کے قریب گاڑی روک کر گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے وقت وکلاء کی بڑی تعداد بھی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ہمراہ موجود تھی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس میں تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مذکورہ آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہوں پر جرح کے لیے چار روز کی مہلت دی گئی تھی، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر وہ مقررہ مدت میں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ حکم غیر مؤثر تصور ہوگا۔
یاد رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے متنازع ٹوئٹس کے معاملے پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا ہے