
لندن: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو غلط قرار دے دیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی جنگ کے دوران نیٹو افواج محاذِ جنگ سے “کچھ فاصلے پر” رہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر برطانیہ کے سابق فوجیوں اور سیاستدانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیرِ مسلح افواج ال کارنز نے ٹرمپ کے بیان کو “انتہائی مضحکہ خیز” اور “انتہائی افسوسناک” قرار دیا، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کیمی بیڈنوک نے اسے “کھلا جھوٹ” کہا ہے۔
دیگر سیاسی رہنماؤں اور فوجی حلقوں نے بھی امریکی صدر کے بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اتحادی افواج کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ نے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے قانون (آرٹیکل فائیو) کو فعال کیا، جس کے تحت برطانیہ سمیت متعدد اتحادی ممالک نے افغانستان میں فوجی کارروائی میں حصہ لیا۔ اس طویل جنگ کے دوران 457 برطانوی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
افغانستان میں خدمات انجام دینے والے برطانوی فوجی کارپورل اینڈی ریڈ نے بی بی سی سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو “انتہائی بے عزتی” قرار دیتے ہوئے کہا:
“کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہم جسمانی یا ذہنی تکلیف میں نہ ہوں اور اس جنگ کی یادیں ہمیں نہ ستائیں۔”