
محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے تمام نجی اسکولوں پر واضح پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ والدین کو کتابیں، یونیفارم اور دیگر تعلیمی سامان کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے خریدنے پر مجبور نہیں کر یں گے۔ایسے اقدام کا مقصد والدین کو غیر ضروری مالی دباؤ سے بچانا ہےنجی تعلیمی اداروں میں قواعد و ضوابط پر عمل کروانا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا وہ نوٹیفکیشن جس میں پنجاب کے سرکاری اور نجی کالجوں اور جامعات میں طلبہ کی حاضری کی شرط ختم کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل دستاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کم حاضری کی بنیاد پر نہ تو طلبہ کے داخلے یا امتحانات روکے جائیں گے اور نہ ہی حاضری سے متعلق کوئی جرمانہ یا سزا عائد کی جائے گی۔ مبینہ نوٹیفکیشن پر 17 جنوری 2026 کی تاریخ درج ہے اور اس پر بابَر خان گوندل نامی سیکشن آفیسر کے دستخط بھی موجود ہیں، جبکہ اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
تاہم ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے اس حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے اور اس کا ایچ ای سی یا کسی متعلقہ سرکاری ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔
ایچ ای سی کے مطابق یہ جعلی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، جس سے طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ کمیشن نے عوام، طلبہ اور تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس قسم کی غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف ایچ ای سی یا متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ مستند اعلامیوں پر ہی انحصار کریں۔
ایچ ای سی نے مزید کہا کہ جعلی نوٹیفکیشن پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے