
اسلام آباد: پاک وہیلز ویب سائٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے روحِ رواں سنیل منج نے ٹویوٹا گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کی وجوہات بیان کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹویوٹا کی گاڑیوں کی قیمت میں 25 لاکھ روپے تک کمی کے پیچھے حکومتی ٹیکس پالیسی اور کمپنی کا اپنا فیصلہ شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق سنیل منج نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں کمی کے باعث گاڑی کی قیمت میں تقریباً 15 لاکھ روپے کا فرق پڑا، جبکہ باقی 10 لاکھ روپے ٹویوٹا نے اپنے مارجن میں سے کم کیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹویوٹا کی قیمتوں میں اس قدر بڑی کمی اس وقت ہر جگہ زیرِ بحث ہے اور آٹو انڈسٹری میں اسے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سنیل منج کے مطابق حالیہ برسوں میں کسی بھی بڑی کارساز کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں اتنی بڑی کمی دیکھنے میں نہیں آئی، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ آٹو مارکیٹ کے لیے اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستان میں اپنی 35ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی مقبول آف روڈ اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (SUV) ٹویوٹا فارچیونر کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے، جو حالیہ برسوں میں آٹو انڈسٹری کی سب سے بڑی قیمت میں کمی قرار دی جا رہی ہے۔
قیمتوں میں کمی کے بعد ٹویوٹا فارچیونر جی کی نئی قیمت ایک کروڑ 24 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل 25 لاکھ روپے زیادہ تھی۔ اسی طرح ٹویوٹا فارچیونر وی کی قیمت میں 25 لاکھ 70 ہزار روپے کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت ایک کروڑ 49 لاکھ 35 ہزار روپے ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف ٹویوٹا کی فروخت میں اضافہ متوقع ہے بلکہ آٹو انڈسٹری میں مسابقت بھی بڑھے گی