
اسلام آباد کی عدالت نے متنازعہ ٹویٹس کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے آج کی سماعت کا بائیکاٹ کیا۔ ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمان کو آج کے دن تک گواہان پر جرح کا حکم دے رکھا تھا، تاہم ایک دیگر مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہونے کے باعث دونوں ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا گیا۔
پراسکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں موجود تھے۔
پراسکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCIA) نے 22 اگست 2025 کو ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایف آئی آر نمبر 234/2025 درج تھی۔ مقدمہ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (PECA) 2016 کی دفعات 9، 10، 11 اور 26-A کے تحت قائم کیا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پراسکیوشن کی جانب سے مقدمے میں مجموعی طور پر پانچ گواہان پیش کیے گئے، جبکہ تیس صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کرایا گیا۔ چالان کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر پی ٹی ایم اور دیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد کی تشہیر کے الزامات تھے۔
عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں ملزمان کی مختلف ٹویٹس کو بطور ثبوت شامل کیا گیا، جن کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی