
لاہور: وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو این آر او دینے والا اب کوئی نہیں، اگر رہائی چاہتے ہیں تو صرف عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اب تحریکِ انتشار بن چکی ہے، جبکہ حکومت نے اقتصادی لانگ مارچ کرنا ہے، سڑکوں پر انتشار نہیں پھیلانا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔ کرپشن میں سزا یافتہ شخص کو بچانے کے لیے پورے ملک کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا ہدف پاکستان کو دنیا کی ٹاپ 10 معیشتوں میں شامل کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے معاشی استحکام ناگزیر ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ 30 جنوری کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ایک انقلابی منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں انجینئرز کو ایک سال کی انٹرنشپ دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کی طرف لے کر جا رہی ہے، لیکن اگر ملک میں فساد اور انتشار ہوگا تو سرمایہ کار یہاں آنے سے گریز کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی حاصل ہو چکی ہے، اب معرکۂ ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ معرکۂ فساد یا انتشار ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا، جبکہ پاکستان کا دشمن بدامنی کے ذریعے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
آئینی ترمیم سے متعلق بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آئینی ترمیم ہمیشہ دو تہائی اکثریت سے ہی ممکن ہوتی ہے، حکومت تنہا کوئی ترمیم نہیں کر سکتی، اور تاحال 28ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا۔