امریکی شہرمنیاپولس میں الیکس جیفری کی ہلاکت اور احتجاج

11

امریکہ کے شہر منیاپولِس میں وفاقی امیگریشن حکام کی کارروائی کے دوران 37 سالہ الیکس جیفری پریٹی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ پریٹی ایک ICU نرس اور یو ایس شہری تھے جنھیں اپنے والدین نے ”بہت مہربان اور خدمت گزار روح“ کے طور پر بیان کیا ہے اور وہ اپنے بیٹے کی موت کی حقیقت جاننے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 

مظاہرین کا احتجاج اور حالاتِ حاضرہ

ہلاکت کے بعد سڑکوں پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ ایک مظاہرین نے بی بی سی کو بتایا: ”ہم بے یقینی میں ہیں، ہمیں نہیں معلوم آگے کیا ہوگا۔“ 

مقامی پولیس اور ریاستی حکام نے بتایا ہے کہ فائرنگ سے قبل اور واقعے کے بعد مختلف ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں جو وفاقی حکام کے بیانات سے مختلف ہیں، جس سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ 

گورنر کا ردِ عمل

منیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وفاقی امیگریشن ایجنٹس کو ریاست سے واپس بلائیں اور کہا: ”یہ ایک اہم موڑ ہے، امریکہ کے لیے بڑا لمحہ ہے۔“ 

فوجی اور مقامی حکام کے بیانات میں اختلاف

وفاقی اہلکاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پریٹی نے اپنے پاس ہتھیار رکھ رکھا تھا اور اسی وجہ سے فائرنگ کی گئی، لیکن شاہراؤں پر بننے والی متعدد ویڈیوز میں وہ صرف فون ہاتھ میں پکڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین اور مقامی رہنما واقعہ کی مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ 

سماجی اور سیاسی ردعمل

یہ واقعہ جن broader بحثوں کو جنم دے رہا ہے ان میں وفاقی اور ریاستی حکام کے بیانات میں تضاد، امیگریشن پالیسیوں پر سخت اختلاف، اور عوامی احتجاجات شامل ہیں۔ اس سے قبل اسی ماہ بھی رینی گڈ نامی ایک اور امریکی شہری کو وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ میں ہلاک ہونے پر بڑے احتجاجات ہوئے تھے۔  

مزید خبریں

آپ کی راۓ