
لداخ کے دور افتادہ گاؤں ہانلے کے آسمان پر عموماً گہرا نیلا رنگ چھایا رہتا ہے جہاں صرف دور دراز کہکشاؤں کی مدھم جھلک دکھائی دیتی ہے، مگر 19 اور 20 جنوری کی رات یہ خاموش فضا ایک غیر معمولی سرخ روشنی سے جگمگا اٹھی۔
چین اور بھارت کے درمیان واقع متنازعہ علاقے لداخ میں آسمان پر نمودار ہونے والی ان خون رنگ روشنیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جو دیکھنے والوں کو مسحور کر رہی ہیں۔ تاہم ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ مناظر محض خوبصورتی نہیں بلکہ سورج کی خطرناک سرگرمی کی واضح علامت ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ سرخ ارورا دراصل ایک انتہائی شدید شمسی طوفان کا نتیجہ ہیں، جو 2003 کے بعد سب سے طاقتور تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 18 جنوری کو سورج پر ایک طاقتور ایکس فلیئر پھوٹا، جس کے نتیجے میں ایک بڑا پلازما بادل خلا میں خارج ہوا، جسے کورونل ماس ایجیکشن (CME) کہا جاتا ہے۔ یہ بادل سورج کی گیس اور مقناطیسی توانائی پر مشتمل تھا اور تقریباً 1,700 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی جانب بڑھا، جو صرف 25 گھنٹوں میں زمین کی فضا تک جا پہنچا۔
جب یہ تیز رفتار شمسی ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرائے تو G4 سطح کا شدید جیو میگنیٹک طوفان پیدا ہوا۔ اس طوفان نے زمین کے مقناطیسی نظام میں شدید ہلچل پیدا کی، جس کے نتیجے میں فضا میں موجود آکسیجن کے ایٹم متحرک ہوئے اور آسمان پر سرخ رنگ کی روشنی نمودار ہوئی۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کے شدید جیو میگنیٹک طوفان بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ، سیٹلائٹس کے مدار میں تبدیلی، جی پی ایس، مواصلاتی اور بینکنگ نظام میں خلل کا سبب بن سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کو بھی اس دوران حفاظتی اقدامات اختیار کرنا پڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سورج کی سرگرمی پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے شمسی طوفان جدید ٹیکنالوجی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں