اس وقت ڈھاکہ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟

40

ڈھاکہ میں سیاسی حلقوں میں ایک لفظ بار بار زیرِ بحث آ رہا ہے: ’کوچوکھیت‘۔ یہ علاقہ، جہاں فوجی تنصیبات واقع ہیں، حالیہ دنوں میں عوامی گفتگو میں اس تاثر کی علامت بن چکا ہے کہ بنگلہ دیش میں اصل طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اصطلاح سویلین سیاست میں فوجی اثر و رسوخ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

بنگلہ دیش 12 فروری کو قومی انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، جو 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے۔ اس تحریک کے نتیجے میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔

انتخابات اور فوج کا کردار

اگرچہ فوج براہِ راست اقتدار حاصل کرنے کی خواہشمند نہیں، تاہم انتخابات کے ماحول میں اس کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ 2024 کے سیاسی بحران کے بعد پولیس ادارہ تاحال کمزور ہے، جس کے باعث امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری بڑی حد تک فوج کے سپرد ہے۔

حکام کے مطابق انتخابات کے دوران ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ انتخابی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کے تحت فوج کو باضابطہ طور پر “قانون نافذ کرنے والے اداروں” میں شامل کیا جا رہا ہے۔

فوجی قیادت کا مؤقف

بین الاقوامی بحران گروپ کے ماہر تھامس کین کے مطابق فوج نہ صرف عبوری حکومت کی سیاسی پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ پولیس کی کمزوری کے باعث روزمرہ سیکیورٹی بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کی مجموعی خواہش یہی ہے کہ انتخابات پرامن انداز میں ہوں تاکہ ملک آئینی استحکام کی طرف لوٹ سکے اور فوج واپس بیرکوں میں جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فوج اقتدار سنبھالنا چاہتی تو 5 اگست 2024 کو، جب سیاسی نظام مکمل طور پر بکھر چکا تھا، یہ کام بآسانی کیا جا سکتا تھا، مگر ماضی کے تلخ تجربات کے باعث ایسا نہیں کیا گیا۔

بالواسطہ اثر و رسوخ

ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسی تجزیہ کار عاصف شاہان کا کہنا ہے کہ فوج اب براہِ راست مداخلت کے بجائے ادارہ جاتی طاقت، سیکیورٹی نیٹ ورکس اور معاشی مفادات کے ذریعے اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کے مطابق فوج کا کارپوریٹ نیٹ ورک، بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شمولیت اور ریٹائرڈ افسران کی سرکاری و نجی اداروں میں موجودگی اس اثر و رسوخ کو مضبوط بناتی ہے۔

2024 کی تحریک میں فیصلہ کن کردار

ریٹائرڈ بریگیڈیئر مصطفیٰ کمال روشن کے مطابق 2024 کی عوامی تحریک کے دوران فوج کا رویہ فیصلہ کن تھا۔ فوج نے شہریوں پر گولی چلانے سے انکار کیا، کرفیو پر مکمل عملدرآمد نہیں کروایا اور بالآخر شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی، جس سے بڑے پیمانے پر خونریزی ٹل گئی۔

آرمی چیف جنرل واکر الزمان نے بھی ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا:

“ہم شہریوں پر گولی نہیں چلاتے، یہ ہماری ثقافت کا حصہ نہیں۔ فوج کا سیاست میں کردار نہیں ہونا چاہیے۔”

ماضی کا سایہ

بنگلہ دیش کی تاریخ فوجی بغاوتوں، مارشل لا اور فوجی حکمرانی سے بھری پڑی ہے۔ 1975 میں شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے بعد فوجی مداخلتوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور دیگر سیاسی قوتیں ابھریں۔ 2007 میں بھی فوج کی حمایت یافتہ نگران حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا۔

سرحد کہاں ہے؟

اگرچہ فوج موجودہ حالات میں اقتدار پر قبضے کا ارادہ نہیں رکھتی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی سیاسی معاملات میں بار بار بیانات اور انتخابی ٹائم لائنز دینا آئینی حدود کے حوالے سے سوالات ضرور کھڑے کرتا ہے۔

محمد یونس کے ایک مشیر نے حال ہی میں واضح کیا کہ:

“فوج سیاست میں مداخلت نہیں کر سکتی، انتخابی تاریخ دینا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ