ایک ہزار نئے ڈرونز اور تل ابیب پے حملے کی ایرانی دھمکی

23

تہران/واشنگٹن:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری علی شمخانی نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے تہران پر حملہ کیا تو ایران تل ابیب کو نشانہ بنائے گا اور اسے مکمل جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔

علی شمخانی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے طاقت کے استعمال نے خطے کو خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

ادھر ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے ایک ہزار نئے جنگی ڈرونز اپنی فضائیہ میں شامل کر لیے ہیں، جنہیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب یورپ نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے دوران عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور فی اونس سونا 5 ہزار 595 ڈالر تک جا پہنچا۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 70.27 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 66.19 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، اور کسی بھی غلط قدم کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ