کے پی میں آج بھی فیض کی باقیات کرتادھرتاہیں؟

22

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی اختیار ولی نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی باقیات آج بھی صوبہ خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں موجود ہیں اور بڑی بڑی پوزیشنز پر بیٹھ کر اہم فیصلے کر رہی ہیں۔

وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ جنرل فیض کی ٹیم اب بھی صوبے کے کلیدی عہدوں پر براجمان ہے اور صوبے کے اصل کرتا دھرتا یہی لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی عناصر نے انتخابات کے دوران ریٹرننگ افسران کے ذریعے پی ٹی آئی کے حق میں نتائج بنوائے۔

اختیار ولی نے مزید کہا کہ اداروں کے اندر موجود یہ نیٹ ورک نہ صرف جمہوری عمل کو متاثر کرتا رہا بلکہ صوبے کی گورننس کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پالیسیوں اور حالیہ بیانات پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی سیاسی اننگ اختتام کے قریب ہے اور وہ اب اپنا آخری اوور کھیل رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں شفاف طرزِ حکمرانی اور حقیقی جمہوری عمل کے لیے بیوروکریسی کو سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد کرنا ناگزیر ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ