عمران خان کی آنکھوں میں سنگین بیماری کی تشخیص

14

سابق وزیراعظم عمران خان نیازی کی آنکھوں میں ایک سنجیدہ مرض کی تشخیص ہوئی ہے جسے طبّی زبان میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری عموماً ریٹینا کی مرکزی رگ میں اچانک رکاوٹ کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بینائی متاثر ہونے لگتی ہے۔

ماہرینِ امراضِ چشم کے مطابق CRVO اُس وقت ہوتا ہے جب آنکھ کے پردے سے خون واپس دل کی طرف لے جانے والی مرکزی رگ بند ہو جائے، اکثر یہ رکاوٹ خون کے لوتھڑے بننے کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔ اس بندش کے باعث ریٹینا میں سوجن، رطوبت کے اخراج اور بعض صورتوں میں اندرونی خون بہنے جیسی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں، جو نظر میں اچانک یا بتدریج کمی کا سبب بنتی ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرض زیادہ تر اُن افراد میں دیکھا جاتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی یا دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔ اسی لیے CRVO کو صرف آنکھوں تک محدود مسئلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ جسم میں خون کی نالیوں سے متعلق دیگر بیماریوں کا عندیہ بھی ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے پر ان کا تفصیلی معائنہ کیا گیا، جس میں جدید ریٹینا اسکیننگ اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) شامل تھی۔ یہ تمام تشخیصی مراحل اڈیالہ جیل میں مکمل کیے گئے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے فوری طور پر اسپتال میں علاج کی سفارش کی۔

اسی طبی مشورے پر عمران خان کو گزشتہ ہفتے رات کے وقت پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں ماہرینِ چشم نے انہیں اینٹی وی ای جی ایف (Anti-VEGF) دوا کا آنکھ کے اندر انجیکشن لگایا۔ یہ علاج ریٹینا میں سوجن، جسے میکولر ایڈیما کہا جاتا ہے، کم کرنے اور خون کی نالیوں سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں ابتدائی مہینوں کے دوران مریض کو مسلسل فالو اَپ اور باقاعدہ انجیکشنز کی ضرورت پڑتی ہے، جو اکثر ماہانہ بنیادوں پر دیے جاتے ہیں۔ آئندہ علاج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ریٹینا علاج پر کس حد تک مثبت ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔

ایک سینئر ماہرِ چشم کے مطابق بعض شدید کیسز میں چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر خطرناک پیچیدگیاں بھی سامنے آ سکتی ہیں، جن میں نیو ویسکیولر گلوکوما شامل ہے۔ اسی لیے عمران خان کے معاملے میں ڈاکٹروں نے قریبی اور مسلسل طبی نگرانی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ