
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات اختتام پذیر ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد یہ سہیل آفریدی کی وزیراعظم سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی جس میں ملکی اور صوبائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق ملاقات کے دوران کسی قسم کے سیاسی معاملات زیر بحث نہیں آئے۔
معاشی، صوبائی اور سیکیورٹی امور زیر غور
ذرائع کے مطابق ملاقات میں خیبرپختونخوا کی معاشی صورتحال، صوبائی مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کو درپیش مالی مشکلات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، محسن نقوی اور امیر مقام جبکہ وزیراعلیٰ کے ہمراہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم ملاقات میں شریک تھے۔
این ایف سی فنڈز اور آپریشنل اخراجات کا مطالبہ
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کے سامنے خیبرپختونخوا کے این ایف سی میں واجب الادا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ رکھا، جبکہ سیکیورٹی آپریشنز کی مد میں 4 ارب روپے جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا جائزہ لیں اور قابلِ عمل حل نکالیں۔
سیاسی امور پر بات نہیں ہوئی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات یا کسی بھی سیاسی معاملے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقات صرف وفاق اور صوبے کے درمیان مالی، انتظامی اور سیکیورٹی امور تک محدود رہی۔
تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔