غزہ میں خون ریزی کا سلسلہ جاری

26

غزہ میں ہزاروں بیمار اور زخمی فلسطینی فوری طبی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کے منتظر ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے مصر کے ساتھ واقع رفح بارڈر کو صرف محدود پیمانے پر کھولا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کراسنگ روزانہ صرف چھ گھنٹے کے لیے فعال ہوگی، جس کے تحت محض 150 افراد کو غزہ سے نکلنے جبکہ 50 افراد کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ کراسنگ تقریباً دو سال تک اسرائیل کی جانب سے بند رکھی گئی تھی، جس کے باعث غزہ میں طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور ہزاروں مریض علاج سے محروم رہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران المواصی کے علاقے میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک تین سالہ فلسطینی بچہ جاں بحق ہو گیا۔ یہ وہی علاقہ ہے جسے اسرائیل بارہا ’’سیف زون‘‘ قرار دیتا رہا ہے، تاہم یہاں مسلسل شہری ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔

رفح کراسنگ کی جزوی بحالی پر مذاکرات کے عروج کے دوران بھی اسرائیلی حملے جاری رہے۔ گزشتہ چند روز میں غزہ بھر میں شدید بمباری کے نتیجے میں 31 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

آج ناصر میڈیکل کمپلیکس کے اطراف سے گزرتے ہوئے مشرقی غزہ میں واقع نام نہاد ’ییلو لائن‘ کے قریب بھاری توپ خانے اور مشین گن فائر کی آوازیں واضح طور پر سنائی دیتی رہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فائرنگ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، جس کے باعث خاص طور پر بے گھر افراد شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ جس علاقے کو محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا تھا، وہ متاثرین کے لیے بدستور غیر محفوظ ثابت ہو رہا ہے۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ