
ہواں — کیوبا حکومت نے امریکہ کی طرف سے اس پر “قومی سلامتی کے لیے خطرہ” بننے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تعاون اور بات چیت کے لیے تیار ہے۔
کیوبا وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں زور دیا کہ کیوبا امریکہ کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ دہشت گردی، منشیات، انسانی اسمگلنگ اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو دوبارہ فعال اور وسیع کرنے کا خواہاں ہے۔ اس بیان میں کہا گیا کہ کیوبا نہ تو کسی غیر ملکی فوجی یا خفیہ ایجنسی کے لیے اڈے فراہم کرتا ہے، نہ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت یا مالی مدد کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ “کیوبا اور امریکہ کے عوام دونوں کو تعمیری تعلقات، قانونی تعاون اور پرامن بقائے باہمی سے فائدہ ہوتا ہے” اور ہواں واشنگٹن کے ساتھ باہمی مفاد اور بین الاقوامی قانون کے تحت احترام اور باہمی سمجھوتے کی بنیاد پر گفتگو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے گزشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نیکولس میڈورو کی گرفتاری کے بعد کیوبا کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور اسے “غیر معمولی اور غیر متوقع خطرہ” قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کینیل نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ باضابطہ مذاکرات میں نہیں ہے، تاہم وہ بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کی بنا پر سنجیدہ گفتگو کے لیے آمادہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی طرف سے تیل کی سپلائی روکنے اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے سے کیوبا کی معیشت پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
(سٹوری الجزیرہ)