بنگلا دیش میں ہزاروں مقدمات واپس لے لئے گئے

4

ڈھاکا: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابقہ عوامی لیگ کے دور میں سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ہزاروں کیسز واپس لینے کی سفارش کر دی ہے، جس سے اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ لاکھوں افراد کو قانونی ریلیف ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

وزارتِ قانون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 23 ہزار 865 ایسے مقدمات کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں سیاسی نوعیت کا قرار دیا گیا۔ یہ مقدمات عوامی لیگ حکومت کے دور میں درج ہوئے اور ان کے باعث تقریباً پانچ لاکھ افراد مختلف قانونی کارروائیوں کی زد میں رہے۔

حکام کے مطابق یہ کیسز زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف قائم کیے گئے تھے، جن میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، جماعتِ اسلامی، حفاظتِ اسلام اور گانو ادھیکار پریشد شامل ہیں۔ یہ مقدمات جولائی کی عوامی تحریک سے قبل کے عرصے میں درج کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی آئی۔

وزارتِ قانون کا کہنا ہے کہ مقدمات کی واپسی کے لیے متعلقہ سیاسی جماعتوں نے درخواستیں جمع کروائیں، جس کے بعد ایک بین الوزارتی فورم نے 39 نشستوں کے دوران کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس عمل میں سیاسی نوعیت کے مقدمات کی درجہ بندی کی گئی، تاہم چھان بین کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2024 میں عبوری حکومت نے ضلعی سطح پر جائزہ کمیٹیاں تشکیل دیں، جن کی قیادت ڈپٹی کمشنرز کر رہے ہیں، جبکہ مرکزی سطح پر یہ عمل قانون کے مشیر آصف نذرل کی سربراہی میں جاری ہے۔ ان کمیٹیوں کو جنوری 2009 سے اگست 2024 کے دوران درج کیے گئے مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا تھا

مزید خبریں

آپ کی راۓ