
امریکی عہدیداروں کے مطابق امریکا ایران کے خلاف مسلسل اور طویل فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں حکام نے بتایا کہ اس بار منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ممکنہ حملوں میں ایران کے جوہری ڈھانچے کے ساتھ ریاستی و سیکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پینٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کر رہا ہے جبکہ ہزاروں فوجی اور جنگی سازوسامان بھی خطے میں بھیجے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا خدشہ موجود ہے۔
دوسری جانب Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) نے خبردار کیا ہے کہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پابندیاں ختم کرنے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر بات چیت کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے