ایران کی بھرپور جوابی کاروائی امریکی طیارے مار گرائے

47

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں، تاہم ایرانی فوج بدستور ایک سخت اور مؤثر حریف کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے ایک امریکی F-15E Strike Eagle طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں ایک اہلکار کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک A-10 Warthog طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جبکہ اس سے قبل F-35 کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئیں، جو ایران کی دفاعی کارروائیوں کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں، اگرچہ بعض ماہرین نے ان پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے جدید حکمت عملی اپناتے ہوئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کیے، جن میں روایتی ریڈار کے بجائے انفراریڈ اور الیکٹرو آپٹیکل (EO/IR) سسٹمز سے رہنمائی لی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی طیاروں کے انجن سے خارج ہونے والی حرارت کو ٹریک کر کے ہدف کو نشانہ بناتی ہے، جس سے ریڈار تباہ ہونے کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا مقامی تیار کردہ مجید (AD-08) میزائل سسٹم ان کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو بغیر ریڈار کے تقریباً 15 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سسٹم کی خاص بات اس کی خفیہ اور مؤثر کارکردگی ہے، خاص طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ڈرونز کے خلاف۔

اگرچہ جدید امریکی طیارے جیسے F-15E اور A-10 جدید دفاعی نظام، فلیئرز اور کم حرارت خارج کرنے والی ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں، اس کے باوجود ایران کے حالیہ دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ محدود وسائل کے باوجود مؤثر جوابی حکمت عملی اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران نے حالیہ ہفتوں میں متعدد امریکی اور اسرائیلی ڈرونز، خصوصاً MQ-9 ریپر، مار گرانے کے دعوے بھی کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید فضائی حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت اور جوابی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور وہ اب بھی میدان میں مؤثر انداز میں موجود ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ