
نیویارک: ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ زیرِ غور آیا۔
اجلاس کے دوران بحرین کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال ہو سکے۔
تاہم قرارداد کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب چین اور روس نے اسے ویٹو کر دیا۔ چین نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے طاقت کے استعمال کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ روس نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کا ساتھ دے، تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر ایک اہم پیش رفت میں ایران نے طویل عرصے سے قید دو فرانسیسی شہریوں کو رہا کر دیا ہے، جو اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کو سفارتی حلقوں میں مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے حالیہ کشیدگی کے باعث دشمن ممالک کے لیے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں