
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سے سیکیورٹی تعاون مکمل طور پر معطل کیے جانے کے بعد دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملکی حکام ’سیکیورٹی تعاون‘ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے امریکی فیصلے کے اثرات آئندہ چند روز میں سامنے آجائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تاہم اس بات کر سراہے جانے کی ضرورت ہے کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ زیادہ تر اپنے وسائل سے لڑی ہے اور 15 سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 120 ارب ڈالرز خرچ کیے، جبکہ اپنے شہریوں اور خطے کے امن کے لیے ہم یہ جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں.