پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پارٹی کے انتخابی نشان ‘بلے’ کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو پی ٹی آئی کے خلاف سازش قراردیا ہے اورفیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن ایکٹ 2017 کی کون سی شق کی خلاف ورزی کی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سیاسی اور شخصیات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات قانون اور آئین کے مطابق کرائے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی پی ٹی آئی سے ’بلے‘ کا نشان واپس لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تعصب کی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے کبھی بھی دوسری جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی نگرانی نہیں کی جیسا کہ اس نے پی ٹی آئی کی، کی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ایک سازش ہے۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کو اس کے انتخابی نشان سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس کے تمام امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر عام انتخابات میں جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی میں 70 مخصوص نشستیں ہیں۔ پاکستان میں مخصوص نشستوں کی کل تعداد 227 ہے۔ نشستیں ان جماعتوں میں تقسیم کی گئی ہیں جن کے پاس انتخابی نشان ہیں۔